نئی دہلی، یکم جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے نریندر مودی حکومت کو بڑی راحت دی ہے۔اقتصادی بنیاد پر غریب طبقے کو 10 فیصد ریزرویشن کے فیصلے پر کورٹ نے روک لگانے سے انکار کر دیا ہے،اب اس معاملے کی سماعت دو ہفتے بعد یعنی 16 جولائی کو ہوگی۔اقتصادی بنیاد پر غریب طبقے کو 10 فیصد ریزرویشن کے خلاف کئی عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔مرکزی حکومت کی طرف اقتصادی بنیاد پر جنرل زمرے کو 10 فیصد ریزرویشن دینے کے خلاف دائر درخواستوں پر سپریم کورٹ سماعت کر رہا ہے۔اس سے پہلے کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کیا تھا اور حکومت نے اسے صحیح قرار دیا تھا۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے اندرا ساہنی معاملے میں سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے 50فیصد کے زیادہ سے زیادہ ریزرویشن کی حد کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔غور طلب ہے کہ کہ لوک سبھا انتخابات سے پہلے ایس سی / ایس ٹی ترمیم بل پر بیک فٹ پر آئی مودی حکومت نے اقتصادی بنیاد پر ریزرویشن کا داؤ چل کر ناراض اعلی ذات کو منانے کی کوشش کی تھی۔اسے مودی حکومت کا ماسٹر اسٹروک مانا گیا تھا کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئے اس بل کے خلاف ملک کے کئی حصوں میں مودی حکومت کے خلاف مظاہرہ ہوا تھا۔بی جے پی لیڈروں کو لگنے لگا تھا کہ ان کے محفوظ ووٹ بینک رہے اونچی ذات انتخابات میں بڑا دھچکا دے سکتے ہیں۔مودی حکومت نے سماجی انصاف کا حوالہ دیتے ہوئے 2019 کے لوک سبھا انتخابات سے ٹھیک پہلے اقتصادی طور پر پسماندہ جنرل زمرے کے لوگوں کے 10 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے اس سلسلے میں آئین ترمیم بل منظور ہونے کے بعد صدر نے بھی اس پر مہر لگا دی ہے،اب حکومت کے نوٹیفکیشن سے یہ ریزرویشن لاگو ہونا شروع ہو گیا ہے۔گجرات حکومت نے سب سے پہلے اپنی ریاست میں یہ نظام نافذکیا ہے، جس کے بعد اب جھارکھنڈ بھی اس قطار میں آ گیا ہے۔اس دوران آر ٹی آئی سے سامنے اعداد و شمار نے چونکا دیا ہے۔اس نئی معلومات کے مطابق، ملک کی 40 مرکزی یونورسٹیز کے علاوہ ریلوے سمیت دوسرے کئی سرکاری محکموں میں طے ریزریشن سے کم دلت قبائلی اور پسماندہ طبقات کی تقرریاں ہوئی ہیں،جبکہ اعلی ذات کی تقرریاں 50 فیصد سے کہیں زیادہ ہیں،یعنی ریزرویشن لاگو نہ ہونے کے باوجود بھی اونچی ذات کی قومیں ہر سرکاری محکمے میں کافی آگے ہیں جبکہ ریزرویشن کا فائدہ ملنے کے باوجود دلت، قبائلی اور پسماندہ معاشرے کے لوگوں کی موجودگی اوسط سے بھی کافی کم ہے،پچھڑوں کی موجودگی تو کئی جگہ نہ ہونے کے برابر ہے۔